آگرہ، 21؍دسمبر (اہس او نیوز؍ایجنسی)آگرہ میونسپل کارپوریشن نے محکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تاج محل پر1.9کروڑ روپے واٹر ٹیکس اور1.5لاکھ روپے پراپرٹی ٹیکس کے طور پر ادا کرے- ساتھ ساتھ اُنہیں یہ رقم 15 دن کے اندر ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر15دنوں میں ٹیکس جمع نہیں کرایا گیا تو تاج محل کو اپنی تحویل میں لیا جائے گا۔
اے ایس آئی سپرنٹنڈنٹ راج کمار پٹیل نے میڈیا کو بتایا،” آثار قدیمہ پر پراپرٹی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا- ہم پانی کے لئے ٹیکس ادا کرنے کے بھی ذمہ دار نہیں ہیں کیونکہ اس کا کوئی تجارتی استعمال نہیں ہے- کیمپس کے اندر ہریالی کو برقرار رکھنے کے لیے پانی کا استعمال کیا جاتا ہے- تاج محل کے لئے پانی اور پراپرٹی ٹیکس سے متعلق نوٹس پہلی بار موصول ہوا ہے، ہو سکتا ہے کہ غلطی سے بھیجا گیا ہو-“
اے ایس آئی حکام نے بتایا کہ تاج محل کو 1920میں ایک محفوظ یادگار قرار دیا گیا تھا اور برطانوی دور حکومت میں بھی اس یادگار پر کوئی ٹیکس یا واٹر ٹیکس نہیں لگایا گیا تھا-
معاملے کے بارے میں میونسپل کمشنر نکھل ٹی فنڈے نے بتایا کہ وہ تاج محل سے متعلق ٹیکس کے بارے میں کارروائی سے واقف نہیں ہیں - ٹیکسوں کے حساب کتاب کے لئے ریاست بھر میں جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) سروے کی بنیاد پر تازہ نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں - انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتوں اور مذہبی مقامات سمیت ان پر واجب الادا واجبات کی بنیاد پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں - قانون کے مناسب عمل کے بعد رعایت دی جاتی ہے-
انہوں نے کہا کہ اے ایس آئی کو نوٹس جاری ہونے کی صورت میں اس کی جانب سے موصول ہونے والے جواب کی بنیاد پر ضروری کارروائی کی جائے گی- اسسٹنٹ منسپل کمشنر اور تاج گنج زون کی انچارج سریتا سنگھ نے کہا کہ تاج محل پر پانی اور پراپرٹی ٹیکس کے لئے جاری نوٹس کے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے-